قربانی کی شرائط قرآن وحدیث کی روشنی میں - Islamic Knowledge

قربانی کی شرائط قرآن وحدیث کی روشنی میں

قربانی کی شرائط قرآن وحدیث کی روشنی میں


قربانی کی شرائط قرآن وحدیث کی روشنی میں

قرآن وحدیث کی روشنی میں قربانی کی شرائط یہ ایک اہم مسئلہ ہے ۔ قربانی یہ ایک عبادت ہے  اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔اور کوئی بھی عبادت اس وقت تک درست نہیں ہوتی جب تک اس سے اللہ کی رضا نہ حاصل  ہو جائے ۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم اللہ کی مدد سے  قرآن و حدیث  کی روشنی میں قربانی  کے جانور کی  شرائط اور ان عیوب کو  بیان کریں گے جن کی وجہ سے کوئی بھی جانور قربانی کے لائق نہیں رہتا  ہے ۔

(1)اخلاص کا ہونا:

 کوئی بھی عبادت اللہ کی بارگاہ میں اس وقت قبولیت کا درجہ پاتی ہے جب اسمیں اخلاص موجود ہو ۔ اگر انسان کی عبادت ، نیکی  میں اخلا س موجود نہ ہو تو اللہ اسکی اس  عبادت کو رد کر دیتے ہیں ۔ چونکہ قربانی بھی ایک عبادت ہے  لہذ ا ہمیں اس  میں اخلاص پیدا کرنا ہوگا  تاکہ اللہ  ہمارے اس عمل کو قبول کریں ۔ اخلا ص کا مطلب ہے کہ انسان   شہرت  ، عزت ، نیک نامی  اور ریا کاری سے بچتے ہوئے صرف اللہ کے لیئے عمل کرے ۔
اللہ نے فرمایا: وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ۔انہیں تو صرف اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ یکسو ہو کر اپنی بندگی کو اللہ کے لیئے خالص کر لیں ۔(سورۃ البینہ ، آیت نمبر:05) جو انسا ن اخلا ص کے ساتھ  چھوٹی سی نیکی بھی کرتا ہے تو ایسے شخص کی نیکی اللہ کی ہاں بہت بڑا مقام رکھتی ہے ۔ اسکے برعکس جو شخص ریاکاری کے ساتھ بڑی نیکی کرتا ہے تو اللہ کے ہاں ایسے شخص کی نیکی کی کوئی قدر نہیں ہوتی ۔
اسی طرح قربانی بھی ایک عبادت ہے  ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عبادت کو اللہ قبول کرلیں تو ہمیں اپنے اس عمل میں اخلاص پیدا کرنا ہوگا ۔ اور ہر دنیادوی غرض سے بچ کر یہ کام کرنا ہوگا۔

(2) سنت کے مطابق ہونا:

جس طرح اس عمل کے لیئے اخلاص کا ہونا شرط ہے اسی طرح یہ بھی شرط ہے کہ انسان کا عمل سنت کے مطابق ہو ۔ اگر انسان میں اخلاص موجود ہو لیکن عمل سنت کے مطابق نہ ہو تو  تب انسان کے عمل کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو  اس کام کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔(صحیح مسلم ،حدیث نمبر:1718)
 انسان کی قربانی اسی وقت اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوگی جب اسمیں   وہ شروط پائی جائیں گی جو شروط نبی ﷺ نے مقرر کی ہیں ۔ قربانی کے جانور کی جو شرائط نبی ﷺ نے مقرر کی ہیں وہ شرائط مندرجہ ذیل ہیں :

1۔وہ جانور مالک کی ملکیت ہو:

یعنی جس جانور کو ذبح کرنا ہے وہ جانور مالک کی ملکیت میں ہو ۔ اور وہ جانور چوری کانہ ہو ۔  اور نہ  ہی غصب شدہ ہو  یعنی اسطرح کی کوئی بھی چیزاسمیں نہ موجود ہو  کیونکہ یہ سب گناہ ہیں ۔  قربانی ایک عبادت ہے  اوراللہ کا قرب حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔  معصیت کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرنا درست نہیں ہے ۔

2۔قربانی کی جنس :

یعنی  ہم نے جس جانور کو ذبح کرنا ہے وہ جانور ان ہی جانوروں میں سے ہو جو کہ نبی ﷺ نے مقرر کئے ہیں ۔ اور وہ گائے ،  بکرا ، بکری ،  اونٹ ، دنبہ ، بھیڑ و غیرہ ہیں ۔

3۔شرعی اعتبار سے  جانور  اپنی مقررہ عمر کو پہنچا ہو :

اس کا مطلب ہے کہ اس جانور کی عمر وہی ہو جو عمر نبی ﷺ نے مقرر کی ہے ۔ یعنی اگر تو جانور   اونٹ ، گائے  یا بکری، بھیڑ  میں سے ہو تو  وہ "ثَنِیّ"ہو ۔حضرت جابر رضی  اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:«لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ»تم مسنہ  (دودانتا)جانور کے علاوہ اور کوئی جانور ذبح نہ کرو ۔ اگر(دودانتا جانور نہ ملے) تو  بھیڑ کا ایک سالہ بچہ ذبح کر لو ۔(صحیح مسلم ، حدیث نمبر:1963)

"مُسِنَّۃ"دودانتے جانور کو کہتے ہیں ۔ یعنی وہ جانور جس کے سامنے والے دو دانت گر گئے ہوں۔ اوربھیڑ میں  " جذعہ"اس جانور کو کہتے ہیں جو کہ ایک سال کا ہو۔

اوپر والی حدیث کے ظاہر سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ " جذعہ"کی قربانی صرف اس وقت کر سکتے ہیں جب  ہمیں کوئی "مُسِنَّۃ"جانور نہ ملے ۔  دودا نتا جانور کی عدم دستیابی پر ہم صرف بھیڑ کے" جذعہ "کی قربانی کر سکتے ہیں ۔ بکری کے " جذعہ "کی کسی  صورت میں قربانی جائز نہیں ہے کیونکہ  اونٹ ، بکری اور گائے  کے لیئے دودانتا "مُسِنَّۃ"ہونا شرط ہے۔

4۔جانور عیوب سے پاک ہو :

جس جانور کو ہم نے عید الاضحیٰ کے موقع پر اللہ کے راست میں قربان کرنا ہے  اس جانور کو عیوب سے پاک ہونا بھی ضروری ہے ۔ وہ چار عیوب ہیں جو کہ نبی ﷺ نے بیان کیئے ہیں ۔حضرت برا ء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:«لَا يُضَحَّى بِالعَرْجَاءِ بَيِّنٌ ظَلَعُهَا،وَلَا بِالعَوْرَاءِ بَيِّنٌ عَوَرُهَا،وَلَابِالمَرِيضَةِ بَيِّنٌ مَرَضُهَا،وَلَابِالعَجْفَاءِالَّتِي لَا تُنْقِي»
لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو   ، بھینگا جانور جس کا بھینگا پن واضح ہو  ، بیما ر جانور جس کی بیماری واضح ہو  اور کمزور جانور  کہ اسکی ہڈیوں میں مخ بھی نہ ہو ایسے جانور کی قربانی نہ کی جائے۔(سنن الترمذی  اور اسکی سند صحیح ہے ۔ حدیث نمبر:1497)اس حدیث میں چار قسم کے جانوروں کا ذکر ہے انکی ہم مزید تفصیل بیان کریں گے ۔

1۔لنگڑا جانور جس کا لنگڑاپن واضح ہو:

اس سے مراد وہ جانور ہے جو کہ چلنے کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو ۔ لیکن اگر کوئی ایسا جانور ہے جس میں تھوڑا بہت لنگڑ اپن ہے   جو کہ مکمل طور پر ظاہر نہیں ہے تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے ۔لیکن اس سے سلامتی یہ افضل ہے ۔

2۔بھینگا جس کا بھینگا پن واضح ہو :

اس سے مراد وہ جانور ہے  جسکی ایک آنکھ پھوڑ گئی ہو یا پھر وہ ابھر گئی ہو ۔ لیکن اگر کوئی ایسا جانور ہے جس کو نظر تو نہیں آتا  لیکن اسکا بھینگا پن واضح نہیں ہے تو  ایسا جانور لائق ِ قربانی ہو سکتا ہے ۔ البتہ اس عیب سے سلامتی بھی ضروری ہے ۔

3۔بیما ر جانور جس کی بیماری واضح ہو :

اس مراد وہ جانور ہے کہ جس کی بیماری شدت اختیا ر کر جائے  ۔  جیسے جانور کو اتنا تیز بخار ہو جائے کہ وہ چرنے سے بھی  عاری ہو جائے ۔ اسی طرح اسے اتنی سخت خارش ہو جائے جو کہ اس کے گوشت کو بھی خراب کردے ۔ اسکے علا وہ جو بھی مرض جسے ہم واضح سمجھتے ہیں ۔ اگر ویسے ہی جانور میں سستی پیدا ہو جائے  جسکی وجہ سے وہ  نہ چر سکے تو  ایسے جانور کی قربانی ہو جائے گی ۔ البتہ  اگر اس سے بھی جانور محفوظ رہے تو یہ  زیادہ بہتر ہے ۔

4۔کمزور جانور جسکی ہڈیوں میں گودا بھی نہ ہو:

اگر کوئی جانور بوڑھا ہے لیکن اسکی ہڈیوں میں گودا موجود ہے تو ایسے جانور کی قربانی ہو جائے گی ۔
 ان کے علاوہ اگر جانور میں ان عیوب کے علاوہ  انکی طرح کا کوئی اور عیب ہو  یا ان سے زیادہ سخت کوئی عیب موجود ہو ۔تو  قیا س کرتے ہوئے ایسا جانور بھی لائقِ قربانی نہیں ہوگا ۔ جس جانور کو بھی ہم عید الاضحیٰ کے موقع پر اللہ کے  راستے میں قربان کریں اس جانور میں یہ تمام شروط موجودہونی چاہیئں ۔ اگر کسی جانور میں ان شروط میں سے ایک شرط بھی مفقود ہوئی تو ایسا جانور لائقِ قربانی نہیں ہوگا۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں صحیح طور ہر دین کو سمجھنے کی اور اسکے  مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !







No comments:

Post a Comment