حصول رزق کے اسلامی ذرائع - Islamic Knowledge

حصول رزق کے اسلامی ذرائع

حصول رزق کے اسلامی ذرائع

حصول رزق کے اسلامی ذرائع

حصول رزق موجودہ دور کا ایک اہم مسئلہ  ہے ۔ ہرآدمی یہی چاہتا ہے کہ وہ دنوں میں امیر  ہو جائے۔ لیکن لوگ    ان  ذرائع سے کوسوں دور ہیں جن کے ذریعے  انسان  اپنے  رزق میں اضافہ کر سکتا ہے ۔ اور اپنے رزق میں برکت  حاصل  کرسکتا ہے ۔
اسلام ہماری زندگی کا ایک مکمل ضابطہ حیا ت ہے۔ اسلام کے مطابق عمل کر کے ہم جہاں آ خرت میں اللہ کی جنت کے مستحق بن سکتے ہیں  وہاں ہم دنیا میں خوشحالی کی زندگی گزار سکتے ہیں ۔ لیکن اگر ہم اس کے بر عکس  زندگی   گزاریں گے  تو ہم  آخرت میں ذلیل ہوں گے اور دنیا میں خوشحالی کی زندگی نہیں گزار سکتے ۔ لہذا ہمیں  اچھی زندگی گزارنے کے لیئے  اسلام کو اپنی زندگی میں لانا ہو گا۔
افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں لوگ   یہ اعتقا د رکھتے ہیں  کہ معاشی طور پر خوشحالی   کے حصول کے لیئے  ہمیں کسی حد تک اسلام سے چشم پوشی کرنی ہوگی ۔ لیکن آج کی اس بحث  میں  ہم اللہ کی رحمت سے  چند وہ بنیادی حصول رزق کے ذرائع بیان کریں گے :
(1)استغفا ر و تو بہ :
حصول رزق  کے ذرائع میں سب سے پہلا  ذریعہ  تو بہ و استغفا ر ہے ۔   انسا ن ہو نے کے ناطے سے انسان سے بہت سے گناہ سرزد ہو جاتے ہیں  ۔ لہذا جوانسان احسا س ندامت لے کر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیتا ہے    اللہ جہاں اس شخص کو معاف فرماتے ہیں وہیں اس شخص کے رزق  میں بے پناہ اضافہ بھی کر دیتے ہیں ۔
اللہ نے فرمایا: اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا۔ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا۔وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا۔اپنے پروردگار سے  گناہوں کی معافی طلب کرو وبہت زیادہ معاف کرنے والا ہے ۔ وہ (استغفار کی وجہ سے ) تم پر موسلادھار بارش کا نزول فرمائے گا ۔ مال اور بیٹوں کے ذریعے سے وہ تمہاری مدد کرے گا ۔ اور تمہارے لیئے  با غات اور نہریں بنائے گا ۔ (سورۃ نوح ، آیت نمبر:12-10)
اس آیت میں اللہ  نے ہمارے سامنے استغفار  کے پانچ فوائد واضح کیئے ہیں ۔ یہ تما  م فوائد ایسے ہیں کہ جن کے ذریعے سے انسان کی دنیا و آخرت دونوں سنور جاتی ہیں ۔ وہ فوائد مندرجہ ذیل ہیں :
1۔گناہوں کی معافی
2-بارش کا حصول
3- دولت کا حصول
4- بیٹوں (یعنی اولا د  کا حصول )
5- باغات اور نہروں کا حصول
لہذا جو انسان اپنے رزق میں اضافہ چاہتا ہے اور اپنے رزق میں خیرو برکت چاہتا ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ کثرت سے استغفار کرے۔اور یہ یا د رکھیں کہ قرآن اللہ کی سچی کی کتاب ہے اور جو یہ بات بتاتا ہے   اس میں کسی بھی قسم    کے شک کی گنجائش نہیں رہتی ہے ۔
  

(2) تقوی ٰ :

  حصول ِ رز ق کے ذرائع  میں   دوسرا ذریعہ  تقوی ٰ ہے ۔ جس انسان کا دل تقویٰ سے لبریز ہو جائے    اللہ اس انسان کو مالا مال کر د یتے ہیں ۔ یہ میری اپنی کوئی بات نہیں ہے بلکہ یہ بات اللہ کا  قرآن ہمارے سا منے واضح کرتا ہے  ۔ قرآنی آیت پیش کرنے سے پہلے ہم آپ   کے سامنے    تقویٰ کی تعریف پیش کرنا مناسب سمجھتے ہیں ۔
تقویٰ کی تعریف : تقویٰ کا مطلب ہے   کہ ا نسان ایسے کا موں   سے خود کو بچائےجو اللہ کی ناراضی  اور عذاب کا سبب بنے ۔
لہذا ہمیں ان کاموں سے اجتناب کرنا ہوگا  جن سے اللہ ناراض ہوتے ہیں ۔ تاکہ ہمارے اندر تقویٰ پیدا ہو سکے ۔   جب ہمارے اند ر تقویٰ پیدا ہوگا  تو ہم تو ہم تقویٰ کے فوائد حاصل کر سکیں گے ۔ تقویٰ کا  فائدہ جو قرآن نے بیان کیا ہے وہ ہم آپکے سامنے پیش کرتے ہیں ۔
اللہ نے فرمایا: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا۔وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے  اللہ اس کے لیئے  (ہر مشکل سے ) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے ۔ اور اسکو ایسی جگہ سے رزق عطا     کریں گے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا  ۔ (سورۃ الطلاق ، آیت نمبر:03-02)
  دیکھیں اس آیت میں بھی اللہ نے حصول رزق کے لیئے   تقوی کو ایک ذریعہ بنایا ہے ۔ لہذ ا  ہمیں تقویٰ اختیار کرنا چاہیئے تاکہ ہم  معاشی تنگی سے نکل سکیں ۔    صرف اسی پر بس  نہیں ہے  بلکہ  قرآن میں ایک مقام  پر اللہ فرماتے ہیں :
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ۔ اگر بستیوں کے لوگ ( اللہ پر ) ایمان لے کر  آتے   اور تقویٰ اختیا ر کرتے   تو ہم  زمین و آسمان کی برکات کے دروازے ان پر کھول دیتے۔(سورۃ الاعراف ، آیت نمبر:96) اس آیت مبارکہ میں بھی اللہ نے تقویٰ کو صرف حصول ِ رزق کا نہیں     بلکہ  یہ وعدہ کیا ہے  کہ جو شخص   تقویٰ اختیار   کرتا ہے     اللہ اس پر زمین و آسمان کی برکات کے دروززے کھول دیتے ہیں ۔

(3) اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیئے فارغ کرنا:

  موجودہ دور  میں لوگ    اپنے کاروبار میں مشغول ہو کر   اپنے آپ کو عبادات سے بہت دور لے جاتے ہیں ۔ لیکن حصول ِ رزق کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ یہ بھی ہے   انسان اپنے آپکو اللہ کی عبادت کے لیئے فارغ کر لے ۔
اپنے آپکو اللہ کی عبادت کے لیئے فارغ کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان  دن رات مسجد میں بیٹھارہے ۔ اور  رزق کے حصول کے لیئے بالکل بھی کوئی کوشش نہ کرے ۔  بلکہ اللہ کی عبادت کے لیئے فارغ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ انسان   جب اللہ کی عبادت کے لیئے کھڑا ہو تو انسان  مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ کھڑا ہو ۔  یعنی عبادت میں احسان کی    صورت  لے کر آئے ۔  عبادت میں احسان کیا ہے ؟
 ایک لمبی حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ ر ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:«أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»(عبادت میں احسان یہ ہے کہ )  آپ    اللہ کی عبادت ایسے کریں جیسے آپ اسے ( اللہ کو ) دیکھ ر ہے ہیں ۔ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے  تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے ۔(صحیح البخاری ، حدیث نمبر:50)
جب ہماری عبادات میں احسان آئے گا تو پھر اللہ  ہمارے رزق میں  اضافہ فرمادیں گے ۔  جیساکہ مندرجہ ذیل   حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ فرماتے  ہیں :«يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ، وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ.»اے ابن آدم ! میری عبادت کے لیئے فارغ ہوجا   میں تیرے سینے  کو   تونگری سے بھر دوں گا    اور تیری فقیری کو ختم کر دوں گا ۔ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے ہاتھوں کو کاموں میں الجھا دوں گا  اور تیری فقیری  کو بھی ختم نہیں کروں گا ۔ ( سنن الترمذی  اور اسکی سند صحیح ہے ۔ حدیث نمبر:2466)

موجودہ دور میں ہم لوگو ں کو دیکھتے ہیں کہ بے تحاشا دولت ہونے کے باوجود انکی زندگی میں سکون نہیں ہوتا  ۔  بلکہ انکی زندگی انتہائی مصروف گزرتی ہے اور انہیں ایک پل بھی سکون   میسر نہیں آتا ۔ جو دولت ا ن کے پا س ہوتی ہے وہ بھی بیماریوں اور آفات کی نذر ہو جاتی ہے ۔ اسکی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ لوگ اللہ سے دور ہوتے ہیں اور  اللہ کے حقوق ادا نہیں کرتے ۔
 حصولِ رزق کے بہت سے ذریعے ہیں ۔ لیکن اختصار کے  پیشِ نظر ہم نے صرف تین طریقوں کو ہی بیان کیا ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں دین کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی تو فیق عطا فرمائے۔   اور ہم سے اپنے دین کی مضبوطی کا کام لے لے ۔ آمین !







No comments:

Post a Comment